جمعرات، 19 جون، 2014

من کی دولت

مقابلے و مسابقت کے اس تیز رفتار مشینی دور میں، روپے پیسے کے پیچھے بھاگتے، جمع و تفریق، حساب کتاب میں گھلتے، جمع و تفریق میں الجھے، کیا ہم  کبھی "من کی دولت" کا شمار کرتے ہیں؟؟؟  خلوص و محبت،قناعت، سچائی و سادگی، سخاوت و بے نیازی، درد مندی و رواداری، باہمی خیر خواہی و اعانت، یہ وہ اصل دولت ہے، جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتی ہے،اور جو کبھی گھٹتی نہیں، بل کہ ہمیشہ بڑھتی ہی رہتی ہے اور ہماری دلی آسودگی، خوشی اور سکون و اطمینانِ قلب کی بھی موجب ہے۔
اس ضمن میں، نبیؐ اقدس کا فرمان ہے: "امیری یہ نہیں کہ سامان ذیادہ ہو، بل کہ امیری یہ ہے کہ دل غنی ہو" (حوالہ: صحیح مسلم)، ایک اور حدیثِ مبارکہ ہے کہ: " دولت مندی مال و اسباب سے حاصل نہیں ہوتی، بل کہ اصل دولت مندی بے نیازی ہے" بہ حوالہ: صحیح مسلم)۔

 مگر، افسوس کہ آج ہر شخص روپے پیسے کے حصول کے لیے،ترقی کی دوڑ میں شامل اس قدر مصروف ہے کہ اتنا بھی وقت نہیں کہ خود اپنا حال احوال معلوم کر سکے، اپنے دل کی حالت و غربت پہ غور کر سکے،بس، دوسروں کی زندگی سے اپنی زندگی کا تقابل و موازنہ کرتے، دوسروں کو پیچھے چھوڑ کر،آگے بڑھ جانے کی تمنا میں، کبھی نہ ختم ہونے والی دوڑ میں دوڑے جارہے ہیں، دوڑے جا رہے ہیں، یہی وجہ پے کہ آج زندگی میں سب کچھ ہونے کے باوجود بھی بے سکونی و بے چینی ہے۔
کیا ہی عجب معاملہ ہے کہ تن کی اس دولت کے لیے جو آنی جانی شے ہے، اس کے حصول کے لیے ہم اپنی زندگی وقف کیے ہوئے ہیں، اور من کی اس دولت کے لیے جو پایئدار ہے، اس کے حصول لے لیے ہمارے پاس سوچنے کی بھی فرصت نہیں!
بہ قول علامہ اقبال:
                       "من کی دولت  ہاتھ  آتی  ہے، تو  پھر  جاتی  نہیں
                       تن کی دولت چھاؤں ہے،آتا ہے دھن،جاتا ہے دھن!
تن کی دولت کے لیے سرگرداں، روپے پیسے کے اعداد و شمار میں مصروف، اگر ہم اپنی "من کی دولت" کا جائزہ لیں، تو ہم پہ منکشف ہو کہ ہم درحقیقت کتنے غریب اور کس قدر مفلس ہیں!ا

1 تبصرہ:

  1. A great piece of literature defining and explaining how we have inclined towards the wrong thought and belief that, being wealthy is all about money, instead being humble and being down to earth is the actual wealth. Nadia!! you have used a great combination of words which is indeed and as always elegant and also, it also defines about you as a person, who is so down to earth and caring, honoured reading an article of this stature :)

    جواب دیںحذف کریں