اتوار، 27 جولائی، 2014

بے مقصد عید

پروردگارِ عالم نے ماہِ رمضان کی عبادتوں و ریاضتوں کے اجر کے طور پہ عید کی صورت تحفہ عطا کیا، اس عید کا فلسفہ اور حقیقی روح یہ ہے کہ باہمی اعانت و امداد کے سبب، معاشرے میں معاشی و معاشرتی ناہمواریاں نہ ہوں، باہم میل ملاپ سے صلۂ رحمی ہو، اخوت و بھائی چارہ پروان چڑھے، اتحاد و اتفاق تقویت پائے،


مگر ہم اپنی عید کا جائزہ لیں، تو ہمیں ہر طرف دکھاوا، ریا کاری اور خریداری میں ایک دوسرے پر سبقت لےجانے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں،چاند رات جو عبادتوں کے اجر کی رات ہے، وہ ہم خریداری میں ضائع کردیتے ہیں،دلوں میں محبت کے جذبات کے بجائے حسد و کینہ لیے، ہر طرف افراتفری کا عالم ہوتا ہے، بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ، ہمارے عید منانے کا انداز بھی بدل گیا، اسی سبب آج ہمارے تہوار پھیکے اور بے رنگ و بے مقصد ہیں، معاشی ترقی کی دوڑ میں بھاگتے، اپنی اعلا اقدار و تہزیب گنواتے، عیدین کے حقیقی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے، دنیاوی نقصان پہ ہمہ وقت افسوس کرتے، ہمیں اپنےاس نقصان کے بارے میں سوچنا ہوگا!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں