1۔ اعلا طبقہ
2۔ متوسّط/درمیانہ طبقہ
3۔ نچلا/ زیریں طبقہ
معاشی لحاظ سے، ہمارا معاشرہ ان طبقات میں منقسم ہے، اعلا طبقے کو معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے اور یہ طبقہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، متوسّط طبقہ بھی باعزت طبقہ کہلاتا ہے، جب کہ نچلے طبقے کو غربت کے سبب عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، حال آں کہ یہ طبقہ بھی معاشرے میں فعال کردار ادا کرتا ہے، بل کہ اگر یہ طبقہ معاشرے میں اپنا کردار ادا نہ کرے، تو اعلا اور متوسّط طبقات کی بنیادی ضروریات کی تکمیل نہ ہو۔

محنت مزدوری کرتے ہوں، سامان لادتے لے جاتے ہوں یا کھیتوں میں اناج کی فصلیں اگانے پر مامور، اس طبقے کے افراد، معاشرے کے دوسرے طبقات کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کی آسانی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
کیا مشینی دور میں ہم کبھی غور کرتے ہیں کہ سا طبقے کا "نچلا طبقہ" کہلانے کی وجہ کیا ہے؟
صرف یہ کہ یہ طبقہ معاشی لحاظ سے کم زور ہے!!!! دوسروں کی ضروریات کی تکمیل میں مصروف، اتنے وسائل نہیں رکھتا کہ خود اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکے!!!!!! ہم نے دولت کو کسوٹی بنا کر، معاشرے کو طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے!!!!!!!
دراصل یہ تقسیم ہم انسانوں کی محدود سوچ اور کم ظرفی کی غمّاز ہے، قدرت کا تو قانونِ مساوات یہ ہے کہ اس نے اپنی تمام نعمتیں، تمام انسانوں کے لیے عطا کی ہیں، ایسا نہیں ہے کہ اللہ پاک نے اپنی نعمتوں میں تخصیص کی ہو کہ فلاں حسین ترین علاقہ امراء کے لیے مخصوص ہے، اللہ پاک نے تو بلا تخصیص و امتیاز اپنی تمام نعمتیں تمام انسانوں کے لیے عطا کی ہیں، بل کہ ان کے لیے بھی جو اس کی ذات کے منکر ہیں! قدرت کا تو قانونِ مساوات یہ ہے کہ فرش پہ سونے والے اور مخملیں بستر پہ سونے والے، ایک جیسے خواب دیکھتے ہیں! تو پھر ہم نے کیوں معاشرے کو ان طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے؟
معاشرے کے معاشی طور پہ کم زور افراد کو "نچلا طبقہ" جیسا سطحی نام کیوں دے رکھا ہے؟ کیا اس طرح ہم قدرت کے قانونِ مساوات سے انحراف نہیں کر رہے ہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس طبقے کو "حوصلہ مند طبقہ" سے موسوم کرنا چاہیے کہ عصرِ حاضر میں، وسائل نہ ہونے کے باوجود جینا حوصلے کا کام ہے!
اگر معاشرے کا ہر صاحبِ استطاعت اس "حوصلہ مند طبقے" کے ایک فرد کا ہاتھ تھام لے، تو معاشرے کے اس طبقاتی تقسیم کا خاتمہ ممکن ہے! حکومتی سطح پر بھی اس محنتی طبقے کے حقوق مقرّر کیے جانے چاہئیں، اور اس طبقے کو بھی اعلا و متوسّط طبقات جیسا مقام ملنا چاہیے!

اگر اس نظر سے دیکھا جائے کہ تمام تینوں طبقات کو یکساں عزت ملنی چاہیے تو اس بات میں کوئی دو رائے نہیں لیکن یہ کہنا کہ لوئر کلاس (نچلے طبقے) کو لوئر کلاس نہ کہا جائے، یہ ایسی ہی بات ہوئی جیسے غریب کو غریب نہ کہا جائے۔ بنیادی طور پر یہ کسی کا نام، خطاب یا لقب نہیں جو جان بوجھ کر تحقیر آمیز رکھ چھوڑا گیا ہو؛ بلکہ یہ خصوصیت ہے۔ لوئر کلاس کہنے کا مقصد تحقیر نہیں، اُن کے اسٹیٹس کی نشان دہی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کہیں قدرت کے قانونِ مساوات سے انحراف ہو رہا ہے۔ مساوات تو ہمارے رویوں میں اپنائے جانے کی ضرورت ہے۔
جواب دیںحذف کریںبہرحال، یکساں اور مساوی حقوق سے متعلق آپ کی بات میں کوئی شک نہیں۔ اہم معاشرتی نکتے پر پہلی تحریر لکھی ہے۔
اردو بلاگنگ میں خوش آمدید۔
To be honest, I was mesmerised by the words used in the blog and they had to come coz the person who wrote is itself such a warm hearted human being.. Awesomely perfect piece of writing , felt so touching after reading it and this indeed conveys a great message and teaches us, how to hold high decorum in the society with every section of people I
جواب دیںحذف کریں