جمعہ، 29 اگست، 2014

رشتوں کی کمزوری

انسانی زندگی میں رشتے درختوں کی مانند ہوتے ہیں،جو زندگی کی کڑی دھوپ اور تھکا دینے والے سفرمیں ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرتےہیں اور زندگی کو آسان و خوش گوار بناتے ہیں،اگر ان رشتوں کو محبت و توجہ کی روشنی اور اخلاص و احساس کی آب و ہوا ملتی رہے، تو یہ  پروان چڑھتے اور پھلتے پھولتے رہتے ہیں،مگر افسوس کہ آج کے تھری جی اور فور جی کے تیز رفتار دور میں رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں کیوں کہ ان میں اخلاص و احساس نہیں ہے، رشتوں میں "اخلاص و احساس ہی ہوتا ہے،جو رشتوں کو قائم رکھتا ہے،
ہمارے دلوں میں کینہ و کدورت اس قدر رچ بس گیا ہے کہ اخلاص و احساس اور محبت کے جذبات کی گنجائش ہی نہیں رہی،ہم نہیں سمجھتے کہ محبتیں بانٹنا ہماری اپنی ذات کے لیے ہی مفید ہے جب کہ دل میں بغض،کینہ و نفرت پالنے سے صرف ہماری ذات کا ہی نقصان ہوتا ہے،دلوں میں رنجشیں لیے ہم اتنے مادّہ پرست ہو چکے ہیں کہ رشتوں کی تعظیم و توقیر اور قدر کھو چکے ہیں،رشتوں کی اہمیت و افادیت ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے،مگر ہم صرف اپنی انا کو فوقیت دیتے ہیں،مروّت و مفاہمت،صلح و آتشی کے الفاظ ہماری زندگی سے ختم ہوگئے ہیں،اسی سبب معمولی رنجش کت باعث رشتے بہ آسانی ٹوٹ جاتے ہیں
اور جو بہ ظاہر قائم ہیں، ان کا حال یہ ہے کہ اپنے تو ہیں، مگر ان میں "اپنا پن" نہیں ہے،عزت و احترام اور احساس سے عاری ان رشتوں کو ہم زبردستی نبھائے جا رہے ہیں،ہمارے رشتوں کا استحکام اور بقا ہمارے اختیار میں ہی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ عصرِ حاضر کی بھاگتی دوڑتی زندگی سے رشتوں کے لیے وقت نکالا جائے،کھوئے ہوئے اخلاص و احساس واپس لایا جائے اور رشتوں کے حقوق ادا کیے جائیں،رشتوں کی عزت و احترام، تعظیم و توقیر کی خوب صورت اقدار و روایات کو زندہ کیا جائے۔