جمعہ، 18 اپریل، 2014

ماسک


اسٹیج اداکار ماسک کا استعمال مصنوعی چہرے کے حصول کے لیے کرتے ہیں تاکہ کردار میں حقیقت کا رنگ بھر سکیں، مگر ہم حقیقی زندگی میں، ماسک کا استعمال دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے کرتے ہیں، یعنی ہر شے کی طرح، ماسک کا بھی غلط استعمال!
 یوں لگتا ہے کہ ہر شے کا غلط استعمال ہماری سرشت کا حصّہ بن چکا ہے، ذاتی مفادات کے لیے، چہروں پہ ماسک چڑھائے، ہم آپس میں ہی دھوکے دیتے ہیں، مصنوعی جذبات، مصنوعی گرم جوشی، مصنوعی محبت و الفت، مصنوعی گفتگو، حتیٰ کہ مصنوعی مسکراہٹ لیے، ہم باطن میں کچھ اور ظاہر سے کچھ اور
ہیں! بہ قول شاعر: 
                         دو چار نہیں،  مجھ  کو فقط   ایک  دکھا   دو
                         وہ شخص،جو اندرسےبھی باہرکی طرح ہو!

یہ جو آج ہم زندگی میں خلوص اور سکون کے نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں، تو اس کی وجہ ہمارے یہی مصنوعی جذبات ہیں، ہم دوسروں کا بھلا اور نفع نہیں سوچتے، دوسروں کے سکھ اور خوشیوں سے خوش نہیں ہوتے، بہ قول مصنف: "دورِ حاضر میں، لوگ اپنے دکھ سے نہیں، بل کہ دوسروں کے سکھ سے دکھی ہیں"۔
بھلائی اور سکون تو دوسروں کے لیے مفید ہونے میں مضمر ہے، تو پھر ہم کیوں شکوہ کناں ہیں؟
 آج معاشرے میں جذبۂ باہمی امداد کے مفقود ہونے اور رشتۂ مواخات کے معدوم ہونے کی بھی، ایک وجہ ہمارے یہ "ماسک چڑھے مصنوعی چہرہے" ہی ہیں، ان کے سبب معاشرے میں باہمی اعتماد و اعتبار بھی ختم ہوچکا! 
ہم چہرے پہ ماسک چڑھا کر دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے!!!!!! دوسروں کی امیدوں اور توقعات کی تکمیل پورا نہ کر سکنے کے سبب!!!!!!!!!!!! اگر ہم دوسروں کی توقعات پوری نہیں کر سکتے، تو بہ طریقِ احسن انکار بھی تو کر سکتے ہیں کہ سچائی بھرا انکار، اس محبت بھرے مصنوعی چہرے اور اقرار سے بہتر ہے، جو دوسروں کو امید و آس اور دھوکے میں رکھے!
حقیقت تو یہ ہے کہ چہرے پہ ماسک چڑھائے، مصنوعی چہرہ لیے، ہم دوسروں کو نہیں، بل کہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں کیوں کہ دھوکے کو اپنے اصل ٹھکانے سے بہت محبت ہوتی ہے، یہ واپس ہمارے پاس آجاتا ہے!

منگل، 15 اپریل، 2014

طبقاتی تقسیم

                                                                 
1۔ اعلا طبقہ
2۔ متوسّط/درمیانہ طبقہ
3۔ نچلا/ زیریں طبقہ
معاشی لحاظ سے، ہمارا معاشرہ ان طبقات میں منقسم ہے، اعلا طبقے کو معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے اور یہ طبقہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، متوسّط طبقہ بھی باعزت طبقہ کہلاتا ہے، جب کہ نچلے طبقے کو غربت کے سبب عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، حال آں کہ یہ طبقہ بھی معاشرے میں فعال کردار ادا کرتا ہے، بل کہ اگر یہ طبقہ معاشرے میں اپنا کردار ادا نہ کرے، تو اعلا اور متوسّط طبقات کی بنیادی ضروریات کی تکمیل نہ ہو۔






محنت مزدوری کرتے ہوں، سامان لادتے لے جاتے ہوں یا کھیتوں میں اناج کی فصلیں اگانے پر مامور، اس طبقے کے افراد، معاشرے کے دوسرے طبقات کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کی آسانی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
کیا مشینی دور میں ہم کبھی غور کرتے ہیں کہ سا طبقے کا "نچلا طبقہ" کہلانے کی وجہ کیا ہے؟
صرف یہ کہ یہ طبقہ معاشی لحاظ سے کم زور ہے!!!! دوسروں کی ضروریات کی تکمیل میں مصروف، اتنے وسائل نہیں رکھتا کہ خود اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکے!!!!!! ہم نے دولت کو کسوٹی بنا کر، معاشرے کو طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے!!!!!!!


دراصل یہ تقسیم ہم انسانوں کی محدود سوچ اور کم ظرفی کی غمّاز ہے، قدرت کا تو قانونِ مساوات یہ ہے کہ اس نے اپنی تمام نعمتیں، تمام انسانوں کے لیے عطا کی ہیں، ایسا نہیں ہے کہ اللہ پاک نے اپنی نعمتوں میں تخصیص کی ہو کہ فلاں حسین ترین علاقہ امراء کے لیے مخصوص ہے، اللہ پاک نے تو بلا تخصیص و امتیاز اپنی تمام نعمتیں تمام انسانوں کے لیے عطا کی ہیں، بل کہ ان کے لیے بھی جو اس کی ذات کے منکر ہیں! قدرت کا تو قانونِ مساوات یہ ہے کہ فرش پہ سونے والے اور مخملیں بستر پہ سونے والے، ایک جیسے خواب دیکھتے ہیں! تو پھر ہم نے کیوں معاشرے کو ان طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے؟
معاشرے کے معاشی طور پہ کم زور افراد کو "نچلا طبقہ" جیسا سطحی نام کیوں دے رکھا ہے؟ کیا اس طرح ہم قدرت کے قانونِ مساوات سے انحراف نہیں کر رہے ہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس طبقے کو "حوصلہ مند طبقہ" سے موسوم کرنا چاہیے کہ عصرِ حاضر میں، وسائل نہ ہونے کے باوجود جینا حوصلے کا کام ہے!
اگر معاشرے کا ہر صاحبِ استطاعت اس "حوصلہ مند طبقے" کے ایک فرد کا ہاتھ تھام لے، تو معاشرے کے اس طبقاتی تقسیم کا خاتمہ ممکن ہے! حکومتی سطح پر بھی اس محنتی طبقے کے حقوق مقرّر کیے جانے چاہئیں، اور اس طبقے کو بھی اعلا و متوسّط طبقات جیسا مقام ملنا چاہیے!