اسٹیج اداکار ماسک کا استعمال مصنوعی چہرے کے حصول کے لیے کرتے ہیں تاکہ کردار میں حقیقت کا رنگ بھر سکیں، مگر ہم حقیقی زندگی میں، ماسک کا استعمال دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے کرتے ہیں، یعنی ہر شے کی طرح، ماسک کا بھی غلط استعمال!
ہیں! بہ قول شاعر:
دو چار نہیں، مجھ کو فقط ایک دکھا دو
یہ جو آج ہم زندگی میں خلوص اور سکون کے نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں، تو اس کی وجہ ہمارے یہی مصنوعی جذبات ہیں، ہم دوسروں کا بھلا اور نفع نہیں سوچتے، دوسروں کے سکھ اور خوشیوں سے خوش نہیں ہوتے، بہ قول مصنف: "دورِ حاضر میں، لوگ اپنے دکھ سے نہیں، بل کہ دوسروں کے سکھ سے دکھی ہیں"۔
بھلائی اور سکون تو دوسروں کے لیے مفید ہونے میں مضمر ہے، تو پھر ہم کیوں شکوہ کناں ہیں؟
آج معاشرے میں جذبۂ باہمی امداد کے مفقود ہونے اور رشتۂ مواخات کے معدوم ہونے کی بھی، ایک وجہ ہمارے یہ "ماسک چڑھے مصنوعی چہرہے" ہی ہیں، ان کے سبب معاشرے میں باہمی اعتماد و اعتبار بھی ختم ہوچکا!
ہم چہرے پہ ماسک چڑھا کر دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے!!!!!! دوسروں کی امیدوں اور توقعات کی تکمیل پورا نہ کر سکنے کے سبب!!!!!!!!!!!! اگر ہم دوسروں کی توقعات پوری نہیں کر سکتے، تو بہ طریقِ احسن انکار بھی تو کر سکتے ہیں کہ سچائی بھرا انکار، اس محبت بھرے مصنوعی چہرے اور اقرار سے بہتر ہے، جو دوسروں کو امید و آس اور دھوکے میں رکھے!
حقیقت تو یہ ہے کہ چہرے پہ ماسک چڑھائے، مصنوعی چہرہ لیے، ہم دوسروں کو نہیں، بل کہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں کیوں کہ دھوکے کو اپنے اصل ٹھکانے سے بہت محبت ہوتی ہے، یہ واپس ہمارے پاس آجاتا ہے!




